Home / Articles / بچوں کی یاداشت مضبوط بنانے کے لیے انہیں ان 4 کھانوں سے بچائیں

بچوں کی یاداشت مضبوط بنانے کے لیے انہیں ان 4 کھانوں سے بچائیں

بچوں کی یاداشت مضبوط بنانے کے لیے انہیں ان 4 کھانوں سے بچائیں

خراب طرز زندگی کا اثر ہماری ذہنی صحت پر بھی پڑتا ہے جس کی وجہ سے ہماری یادداشت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور ہم عام چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بھولنا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر یہ بیماری اتنا بڑھتی ہے کہ یہ یاد کرنا کے کل کیا ہُوا تھا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

بچے عام طور پر صرف اپنی من پسند اشیا کھانا پسند کرتے ہیں اور یہ چیز اُن کی یاداشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اس لیے اگر آپ اپنے اور بچوں کے ذہن کو تیز اور صحت مند بنانا چاہتے ہیں تو ان 4 چیزوں کے استعمال سے دور رہیں۔ سافٹ ڈرنکس اور ڈائیٹ سوڈا

اکثر بچے بازار میں بکنے والے مشروبات پینا بیحد پسند کرتے ہیں جب انہیں پیاس لگتی ہےتو وہ ماں باپ سے انہیں مشروبات کا تقاضا کرتے ہیں لیکن یہ مشروبات اُن کی یادداشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنکس میں پایا جانے والا ہائی فرکٹوز کارن شربت دماغ کی سوزش میں اضافہ کرکے یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے اور اسی طرح سوڈے کی بوتلوں میں ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو دماغ اور یاداشت کو کمزور بناتے ہیں۔

جب بچوں کو بھوک لگتی ہے تو پیکڈ چپس کھانے کا خیال اُن کے ذہن میں آتا ہے اور وہ ماں باپ سے ایسے کھانوں کی فرمائش کرتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکٹ میں بند کھانوں میں موجود ٹرانس فیٹ دماغی حجم کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ الزائمر کی بیماری (شدید بھولنے کی بیماری) کا خطرہ بڑھاتی ہے اور یاداشت کو شدید کمزور کرتی ہے۔

جب بچوں کو بھوک لگتی ہے تو پیکڈ چپس کھانے کا خیال اُن کے ذہن میں آتا ہے اور وہ ماں باپ سے ایسے کھانوں کی فرمائش کرتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکٹ میں بند کھانوں میں موجود ٹرانس فیٹ دماغی حجم کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ الزائمر کی بیماری (شدید بھولنے کی بیماری) کا خطرہ بڑھاتی ہے اور یاداشت کو شدید کمزور کرتی ہے۔ جنک فوڈ اور انسٹنٹ نوڈلز اپنے مزیدار ذائقوں کی وجہ سے بچوں کا من پسند کھانا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کھانے بچوں کے دماغ میں ڈیریوڈ نیوروٹروفک فیکٹر کی پیداوار کو کم کر سکتے ہیں جسکی وجہ سے یاداشت زیادہ دیر تک مضبوط نہیں رہتی اور سیکھنے کی صلاحیت بُری طرح متاثر ہوتی ہے اور دماغ میں نئے نیوران کی پیدا ہونا کم ہو جاتے ہیں۔

بازار میں فروخت ہونے والی چاکلیٹس اور کینڈیز بے تحاشا میٹھا ہونے کے باعث بچوں کے خون میں شوگر لیول کو تیز کرتی ہیں اور ان کا کثرت سے استعمال جہاں اُن کی جسمانی صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے وہاں خون میں شوگر ہائی رکھنے کی عادت سے دماغ پر شدید بُرے اثرات پیدا ہوتے ہیں اور جس وقت وہ میٹھا نہیں کھاتے انہیں کام کرنے اور پڑھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اُن کی توجہ میں کمی پیدا ہوتی ہے اور ایسے وقت میں اُن کے سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ نوٹ: اپنے بچوں کی خوراک پر توجہ دیں اور انہیں ان کھانوں کے بہت زیادہ استعمال سے روکنا والدین کی ذمہ داری ہے تاکہ یہ بچے مستقبل کے اچھے معمار بن سکیں۔

About admin

Check Also

نبی کریمﷺ کی پسندیدہ سستی ترین سبزی

متعدد لوگ یہ بات نہیں جانتے ہمارا جسم چالیس فیصد پانی مختلف غذاؤں سے حاصل …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Recent Comments

No comments to show.

Powered by themekiller.com